سورامیازم کا ہومیو علاج

Niki_Zen
0

بسم اللہ الرحمن الرحیم میں  

تمام دوستوں کو میری طرف سے اسلام علیکم

ہمارا آج کا موضوع ہے 

سورا میازم ۔

ہومیوپیتھی میں تین

ام الامراض ہیں

 1سورا 

2- سفلس 

3- سائیکوسس 

ابتدائے آفرینش سے معالج یا  طبیب ایک ہی الجھن میں گرفتار رہا ہے کہ مرض اچھا ہو جانے کے بعد بار بار کیوں لوٹ آتا ہے بہت معمولی سی لغزش یا موسمی تبدیلی سے دوبارہ عود کر تا ہے۔ یا بیماری کی پہلی شکل تبدیل ہو کر دوسری شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ جو پہلے کی نسبت زیادہ دشوار ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی قوت حیات میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔وہ تبدیلی خواہ وراثتا واقع ہو  یا انسان بذات خود اس کا شکار ہوجائے یہ تبدیلی خیالات میں گندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔اس تبدیلی کی ثانوی علامت جو جسم پر ظاہر ہوتی ہیں  وہ خارش اور کھجلی ہیں ۔مگر ان علامتوں کے اظہار کےبغیر بھی طبیعت پوشیدہ طور سے اس برائی سے پر رہتی ہے ۔ اور کسی معمولی سی جسمانی خرابی کو پیچیدہ بنانے کا سبب ہوتی ہے ۔ محض سورا ہی انسان کے اندر وہ مادہ ہے  جس کو ہم ام الامراض کہہ سکتے ہیں ۔یعنی اس ما دے کے بغیر انسان کے اندر کسی دوسری مہلک بیماری کا امکان ممکن نہیں ہے۔یہ مادہ مدتوں مخفی حالت میں جسم کے اندر دبا رہتا ہے ۔اور مختلف انداز میں بیماری کی شکلیں اختیار کرتا ہے۔کبھی سورا انتہائی مسموم خارش بن جاتا ہے تو کبھی جذام کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو کبھی طاعون بن کر ظاہر ہوتا ہے ۔یہ سب اسی سورا کی مختلف شکلیں ہیں جو زمانہ قدیم سے انسان کی ہلاکت کا باعث رہا ہے۔اگر سورا نہ ہوتا تو انسان کے اوپر کوئی بھی بیماری اپنا اثر نہ کرتی غالبا اس سے  آپ منکر نہ ہونگے کہ ہر انسان کے اندر بہ یک وقت دو جذبے نیکی اور بدی کے پائے جاتے ہیں چنانچہ جس وقت انسان پر بدی کا جذبہ مسلط ہوتا ہے تو اس کے اندر ہر برائی جنم لے سکتی ہے۔ بیماری بذات خود ایک بدی ہے نیکی نہیں ۔اس بدی کے جذبے یا خیال یا سوچ کا نام سو را ہے ۔

میں یہاں یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بلاشبہ سورا کی ابتدا اس جہان فانی کے آغاز سے پہلے ہی افلاک پر ہو چکی تھی ۔جب خدائے لم یزل نے فرشتوں کو اپنے تخلیق کردہ آدم کے پتلے کو سجدے کا حکم دیا تو ابلیس  کے اندر چھپا ہوا سورا تکبر کی صورت میں سامنے آیا اور اس طرح عزازیل خدا کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا اور بارگاہ ایزدی سے رھتکارا گیا ۔

ابلیس تو خیر ناری ہے اور اس میں شر کا عنصر موجود ہیں مگر سورا وہ زہر قاتل ہے جس سے اللہ تعالی کی نوری مخلوق بھی محفوظ نہیں رہ سکیں اس کی ایک واضح اور زندہ و جاوید مثال ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں کی ہے جو دام سورامیں گرفتار ہوئے اور زہرہ نامی ایک عورت کے حسن سے مبہوت ہوکر اپنے فرائض منصبی سے غافل ہوگئے اور سزا کے طور پر عراق کے چاہ بابل میں لٹکا دیے گئے اور اب قیامت تک سورا کی آگ میں سلگتے رہیں گے۔

گریٹ ہانیمن سورا کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

سورا کی ابتدا کا تعلق انسانی ذہن سے ہے اس کی ابتدا منفی خیالات سے ہوتی ہے انسانی جسم پر اس کا اظہار کھجلی یا خارش، پھنسی، دانے ،داد کی صورت میں ہوتا ہے ۔

سورا انسان کے جسم میں لاکھوں سالوں سے موجود ہے اس کی ابتدا اس کرہ عرض پر اس وقت ہوئی جب انسان نے فطرت سے بغاوت کی اس لیے ہم سو را کو منفی خیال کا نام دے سکتے ہیں ۔ 

قابیل نے ہابیل کا خون بہا کر سوراکو مستقل بنیاد فراہم کر دی شیطان اور اس کے چیلوں نے رفتہ رفتہ انسانی دماغ کو سورا کی آماجگاہ بنا دیا۔ مگر اللہ کے برگزیدہ بندوں نے سورا کو اپنی مشق ریاضت و عبادت سے مار بھگایا اور سرخرو ہوئے ۔اللہ تبارک و تعالی نے انبیاء اور رسول علیہ السلام اس دنیا میں بنی آدم سے سورا جیسے عفریتوں اور عفونتوں  کو ختم کرنے کے لیے بھیجے ۔ 

میں یقین سے یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کے انسان جب اس دار فانی میں آیا تو اس کی روح پاکیزہ اور نیک تھی وقت کے ساتھ ساتھ اس کو سورا ،سفلس ،سائیکوسس جیسے مہلک امراض نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اگرچہ خدائے رحمٰن و رحیم نے شر اور خیر کے راستے واضح کر دیے ہیں اور ان کی جزا اور سزا بھی بیان کردی ہے لیکن اس کے باوجود انسان مختلف برائیوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے ۔

سورا کی خصوصی علامات کے ذریعے انسان کے جسم پر اس کے اثر کو پہچانا جاتا ہے  عام حالات میں اس کی پہچان بڑی پیچیدہ ہے مگر جہاں تک اس کے اثر کا تعلق ہے یہ بڑا ضدی اور مستقل ہوتا ہے اور جسم کا کوئی حصہ اس کے خراب اثرات اور تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا حتیٰ کہ اس کی تباہ کاریوں سے جسمانی و دماغی یہاں تک کہ روحانیت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی کوئی بھی جسمانی عمل اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا باوجود یہ کہ جسم کے ہر حصہ اور مرکز پر اس کا اثر ہوتا ہے اس پر طرہ یہ ہے کہ یہ فوری کسی دوسرے میازم  سے اشتراک بھی پیدا کر لیتا ہے  اور یہ اشتراک بعض اوقات اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ اس کا دوسرے میازم  سے جدا کرنا ممکن نہیں ہوتا مگر صرف علاج بالمثل کے ذریعے اس کو جدا کرنے کے مواقع ہیں۔

 دوسری کیفیت اس میازم کی ایک اور وہ یہ کہ یہ جسم کے اندر اپنے مخصوص انداز میں خاموش چھپی ہوئی حالت میں پڑا رہتا ہے اور اندر ہی اندر تباہ کاریاں کرتا رہتا ہے مندرجہ وجوہات کی بنا پر سورا انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے 

گریٹ ہنی مین فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے جسم کے اندر سورا نہ ہوتا تو کسی بھی بیماری کا ظہور ممکن نہ ہوتا ۔حتی کہ سفلس اورسائیکوسس  بھی انسان پر اثر انداز نہ ہو سکتے  تمام بیماریوں کے پیداوار کا سورا ہی بنیادی سبب ہے حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دنیا کی تمام بیماریوں کے داخلہ کا واحد دروازہ ہے  جس کے علاوہ کسی دوسرے ذریعہ سے جسم کے اندر داخلہ ممکن نہیں سورا نافرمانی اور گناہ کا پہلا تخیل ہے لہذا ہر بیماری یا گناہ اس وجہ سے پرورش پاتا ہے ورنہ اس کا ارتکاب ممکن نہ ہوتا کبھی تو یہ سورہ کی کسی شدید بیماری کی صورت اختیار کر لیتا ہے ورنہ عام طور سے  یہ جسم کے اندر خاموشی سے پڑا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی تباہ کاریوں سے جسم کے کسی نہ کسی حصہ کو متاثر کرتا رہتا ہے زمانہ قدیم کے حکما نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ اگر جلدی امراض کو بیرونی علاج سے دبا دیا جائے تو فوری طور پر اس کا  خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور پھر کوئی دوا یا قوت اس کے تخریبی عمل کو جب کہ اندرون جسم اعضاء متاثر ہو جائے تو نہیں روک سکتی۔ 

 گریٹ ہانمن  نے اس کی تحقیق پر لگاتار برسہا برس گزارنے کے بعد دریافت کیا کہ کس طرح جسم انسانی پر اپنی پچیدہ شکل سے اثر انداز ہوتا ہے

گریٹ ہانیمن  ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے سورا کومزمن بتلایا اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام بیماریوں کا جدامجد اور بنیادی سبب ہے

والسلام 

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !